ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بچوں کی شادی کو’قطعی برداشت نہیں کرنے‘کی پالیسی اپنائی جائے:این ایچ آر سی 

بچوں کی شادی کو’قطعی برداشت نہیں کرنے‘کی پالیسی اپنائی جائے:این ایچ آر سی 

Fri, 05 Jan 2018 20:33:11    S.O. News Service

بھونیشور،5؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی)نے ریاستوں سے کہا ہے کہ بچوں کی شادی پر روک لگانے کے لئے اس سماجی بیماری کو قطعی برداشت نہیں کرنے کی پالیسی اپنائی جائے اور بچوں کی شادی روک تھام ایکٹ، 2006 کو سختی سے نافذ کیا جائے۔ ہندوستان میں روزانہ تقریباً3,600بچوں کی شادیاں ہوتی ہیں۔این ایچ آر سی کے سیکرٹری جنرل ابج شرما نے بچوں کی شادی پر ایک علاقائی کانفرنس میں کہاکہ 18سال سے کم عمر کے بچوں کی شادی ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔اس کانفرنس کا بنیادی مقصد قومی ایکشن پلان لانا ہے۔شرما نے کہا کہ کانفرنس میں قانون کے مؤثر نفاذ میں نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے آنے والے چیلنجوں اور بچوں کی شادی پر نگرانی رکھنے اور اس کی خبر دینے جیسے مسائل پر بھی بات چیت کی جائے گی۔این ایچ آر سی کی ایک ریلیز میں قومی جرم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ہونے والے کل بچوں کی شادیوں میں سے 40فیصد سے زیادہ ہندوستان میں پائی جاتی ہیں۔یہاں روزانہ 3,600 شادیاں ہوتی ہیں۔لیکن اس سے متعلق مہیا چنندہ معاملے ہی درج ہوتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2015 اور 2016 میں بچوں کی شادی روک تھام ایکٹ کے تحت محض 293 اور 326 کیس ہی درج کئے گئے۔سروے کے مطابق مغربی بنگال میں ہونے والی کل شادیوں میں 40.7 فیصد بچوں کی شادیاں ہوتی جو اٹھارہ سال سے کم ہیں۔اس کے بعد 39.1 فیصد کے اعداد و شمار کے ساتھ بہار ہے۔جھارکھنڈ میں 38 فیصد اور راجستھان میں 35.4 فیصد بچوں کی شادیاں ہوتی ہیں۔


Share: